میں نے اللہ کو آخری لمحے میں پکارا

ایک نو مسلم کی ایمان افروز سچی کہانی:

میری زندگی کامیابیوں سے بھری ہوئی تھی—اچھی تعلیم، مضبوط کیریئر، دولت اور آزادی۔ لوگ مجھے کامیاب کہتے تھے، مگر میں جانتا تھا کہ میرے اندر ایک خلا ہے جو کسی چیز سے نہیں بھر رہا۔

میں مذہب کو کمزوری سمجھتا تھا۔ میرا ماننا تھا کہ انسان خود ہی سب کچھ ہے۔ مگر زندگی نے مجھے ایک ایسا سبق دیا جو کسی کتاب میں نہیں لکھا۔

ایک رات میں شدید حادثے کا شکار ہوا۔ ہسپتال کے بستر پر لیٹا ہوا، جب ڈاکٹروں نے کہا کہ اگلے چند گھنٹے فیصلہ کن ہیں، تب پہلی بار مجھے اپنی بےبسی کا احساس ہوا۔ میں نے ہر اُس چیز کو پکارا جس پر میں نے بھروسا کیا تھا—پیسہ، حیثیت، تعلقات—مگر کوئی جواب نہ آیا۔

اسی لمحے میرے ذہن میں ایک مسلمان ساتھی کی بات گونجی:
“اگر کبھی سب راستے بند ہو جائیں، تو صرف اللہ کو پکارنا۔”

میں نے کانپتی آواز میں کہا:
“اے اللہ! اگر تو واقعی ہے، تو مجھے بچا لے… میں تجھے پہچان لوں گا۔”

میں زندہ بچ گیا۔

صحت یاب ہونے کے بعد میں بدل چکا تھا۔ میں نے قرآن کا ترجمہ پڑھنا شروع کیا۔ سورۂ حدید کی آیت نے مجھے جھنجھوڑ کر رکھ دیا:

“کیا ایمان والوں کے لیے ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ کے ذکر سے جھک جائیں؟”

مجھے لگا یہ سوال مجھ سے ہی کیا جا رہا ہے۔

میں نے اپنی زندگی کی سمت بدل دی۔ غرور، نشہ، خود غرضی—سب چھوڑ دیا۔ میں نے ایک دن تنہائی میں کلمہ پڑھا۔ وہ لمحہ میری زندگی کا سب سے طاقتور لمحہ تھا۔

آج میں نو مسلم ہوں۔
میں نے آخری لمحے میں اللہ کو پکارا—اور اس نے مجھے زندگی دے دی، صرف جسم کی نہیں، روح کی زندگی۔

شعبہ اعانت نومسلم

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *